سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 5 of 315

سیرت طیبہ — Page 5

یعنی اے میرے بندے تو کس فکر میں ہے؟ کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔“ ( تذکره صفحه ۲۰ مطبوعه ۲۰۰۴ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے اور بعض اوقات قسم کھا کر بیان فرماتے تھے کہ یہ الہام اس شان اور اس جلال کے ساتھ نازل ہوا کہ میرے دل کی گہرائیوں میں ایک فولادی شیخ کی طرح پیوست ہوکر بیٹھ گیا۔اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں میری کفالت فرمائی کہ کوئی باپ یا کوئی رشتہ دار یا کوئی دوست کیا کر سکتا تھا؟ اور فرماتے تھے کہ اس کے بعد مجھ پر خدا کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ ناممکن ہے کہ میں ان کا شمار کر سکوں۔(کتاب البریہ صفحه ۳) (٢) ایک جگہ اس خدائی کفالت کے ایک پہلو کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی شکر کے انداز میں فرماتے ہیں کہ:۔لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكْلِي وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْأَهَالِي“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۶) و یعنی ایک زمانہ تھا کہ دوسروں کے دستر خوان سے بچے ہوئے ٹکڑے میری خوراک ہوا کرتے تھے مگر آج خدا کے فضل سے میرے دستر خوان پر 66 خاندانوں کے خاندان پل رہے ہیں۔“