سیرت طیبہ — Page 4
بہت عمدہ موقعہ ہے اسے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔حضرت مسیح موعود نے اس کے جواب میں بلا توقف فرمایا۔حضرت والد صاحب سے عرض کر دو کہ میں ان کی محبت اور شفقت کا ممنون ہوں مگر میری نوکری کی فکر نہ کریں میں نے جہاں نوکر ہونا تھا ہو چکا ہوں“ (سیرۃ المہدی جلد اول صفحه ۴۳) یہ سکھ زمیندار حضرت دادا صاحب کی خدمت میں حیران و پریشان ہو کر واپس آیا اور عرض کیا کہ آپ کے بچے نے تو یہ جواب دیا ہے کہ ” میں نے جہاں نو کر ہونا تھا ہو چکا ہوں“ شاید وہ سکھ زمیندار حضرت مسیح موعود کے اس جواب کو اس وقت اچھی طرح سمجھا بھی نہ ہوگا مگر دادا صاحب کی طبیعت بڑی نکتہ شناس تھی کچھ دیر خاموش رہ کر فرمانے لگے کہ اچھا غلام احمد نے یہ کہا ہے کہ میں نوکر ہو چکا ہوں؟ تو پھر خیر ہے اللہ اسے ضائع نہیں کرے گا “۔اور اس کے بعد کبھی کبھی حسرت کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ سچا رستہ تو یہی ہے جو غلام احمد نے اختیار کیا ہے ہم تو دنیا داری میں الجھ کر اپنی عمر میں ضائع کر رہے ہیں۔“ مگر باوجود اس کے وہ شفقت پدری اور دنیا کے ظاہری حالات کے ماتحت اکثر فکر مند بھی رہتے تھے کہ میرے بعد اس بچہ کا کیا ہوگا ؟ اور لازمہ بشری کے ماتحت حضرت مسیح موعود کو بھی والد کے قرب وفات کے خیال سے کسی قدر فکر ہوا۔لیکن اسلام کا خدا بڑا وفادار اور بڑا قدر شناس آتا ہے۔چنانچہ قبل اس کے کہ ہمارے دادا صاحب کی آنکھیں بند ہوں خدا نے اپنے اس نوکر شاہی کو جس نے اپنی جوانی میں اس کا دامن پکڑا تھا اس عظیم الشان الہام کے ذریعے تسلی دی کہ 666- آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ