سیرت طیبہ — Page 78
۷۸ تھیں اور ان کے ساتھ اپنی حقیقی ماؤں سے بھی بڑھ کر محبت کرتی تھیں اور جب کوئی فکر کی بات پیش آتی تھی یا کسی امر میں مشورہ لینا ہوتا تھا تو حضرت اماں جان کے پاس دوڑی آتی تھیں۔اس میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں کہ حضرت امان جان کا مبارک وجود احمدی مستورات کے لئے ایک بھاری ستون تھا۔بلکہ حق یہ ہے کہ ان کا وجود محبت اور شفقت کا ایک بلند اور مضبوط مینار تھا جس کے سایہ میں احمدی خواتین بے انداز راحت اور برکت اور ہمت اور تسلی پاتی تھیں۔(1+) مگر غالباً حضرت اماں جان رضی اللہ عنھا کے تقویٰ اور توکل اور دینداری اور اخلاق کی بلندی کا سب سے زیادہ شاندار اظہار ذیل کے دو واقعات میں نظر آتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعض اقرباء پر اتمام حجت کی غرض سے خدا سے علم پا کر محمدی بیگم والی پیشگوئی فرمائی تو اس وقت حضرت مسیح موعود نے ایک دن دیکھا کہ حضرت اماں جان علیحدگی میں نماز پڑھ کر بڑی گریہ وزاری اور سوز و گداز سے یہ دعا فرما رہی ہیں کہ خدا یا تو اس پیشگوئی کو اپنے فضل اور اپنی قدرت نمائی سے پورا فرما جب وہ دعا سے فارغ ہو ئیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم یہ دعا کر رہی تھیں اور تم جانتی ہو کہ اس کے نتیجہ میں تم پر سوکن آتی ہے؟ حضرت اماں جان نے بے ساختہ فرمایا:۔خواہ کچھ ہو مجھے اپنی تکلیف کی پرواہ نہیں میری خوشی اسی میں ہے کہ