سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 77 of 315

سیرت طیبہ — Page 77

صاحبہ نے بتایا کہ میں نے تو اماں جان کی طرف سے ان کے کہنے پر آپ کو یہ دعوت دی تھی۔(^) حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا میں بے حد محنت کی عادت تھی۔اور ہر چھوٹے سے چھوٹا کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں راحت پاتی تھیں۔میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے بارہا کھانا پکاتے ، چرخہ کاتے، نواڑ بنتے بلکہ بھینسوں کے آگے چارہ تک ڈالتے دیکھا ہے۔بعض اوقات خود بھنگنوں کے سر پر کھڑے ہو کر صفائی کرواتی تھیں اور ان کے پیچھے لوٹے سے پانی ڈالتی جاتی تھیں گھر میں اپنے ہاتھ سے پھولوں کے پودے یا سیم کی بیل یا دوائی کی غرض سے گلو کی بیل لگانے کا بھی شوق تھا اور عموما انہیں اپنے ہاتھ سے پانی دیتی تھیں۔(9) مریضوں کی عیادت کا یہ عالم تھا کہ جب کبھی احمدی عورت کے متعلق یہ منتیں کہ وہ بیمار ہے تو بلا امتیاز غریب و امیر خود اس کے مکان پر جا کر عیادت فرماتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق تسلی دیا کرتی تھیں کہ گھبراؤ نہیں خدا کے فضل سے اچھی ہو جاؤ گی۔ان اخلاق فاضلہ کا یہ نتیجہ تھا کہ احمدی عورتیں حضرت اماں جان پر جان چھڑکتی