سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 57 of 315

سیرت طیبہ — Page 57

۵۷ خادمہ کے ہاتھ اسے بھجوایا تا کہ یہ عزیز سردی سے محفوظ رہے۔مگرکوٹ کے مستعمل ہونے کی وجہ سے اس عزیز نے یہ کوٹ حقارت کے ساتھ واپس کر دیا کہ میں استعمال شدہ کپڑا نہیں پہنتا۔اتفاق سے جب یہ خادمہ اس کوٹ کو لے کر میر صاحب کی طرف واپس جارہی تھی تو حضرت مسیح موعود نے اسے دیکھ لیا اور پوچھا کہ یہ کیسا کوٹ ہے اور کہاں لئے جاتی ہو؟ اس نے کہا میر صاحب نے یہ کوٹ اپنے فلاں عزیز کو بھیجا تھا مگر اس نے مستعمل ہونے کی وجہ سے بہت برا مانا ہے اور واپس کر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا واپس نہ لے جاؤ اس سے میر صاحب کی دل شکنی ہو گی۔تم یہ کوٹ ہمیں دے جاؤ۔ہم پہنیں گے۔اور میر صاحب سے کہہ دینا کہ میں نے رکھ لیا ہے۔“ (سیرۃ المہدی جلد ا حصہ دوم صفحه ۳۰۵) یہ ایک انتہائی شفقت اور انتہائی دلداری کا مقام تھا کہ حضرت مسیح موعود نے یہ مستعمل کوٹ خود اپنے لئے رکھ لیا تا کہ حضرت نانا جان کی دل شکنی نہ ہو ورنہ حضرت مسیح موعود کوکوٹوں کی کمی نہیں تھی اور حضور کے خدام حضور کی خدمت میں بہتر سے بہتر کوٹ پیش کرتے رہتے تھے اور ساتھ ہی یہ انتہائی سادگی اور بے نفسی کا بھی اظہار تھا کہ دین کا بادشاہ ہوکر اترے ہوئے کوٹ کے استعمال میں تامل نہیں کیا۔(11) انسان کے اخلاق کا ایک نمایاں پہلو اپنے اہل خانہ کے ساتھ سلوک سے تعلق