سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 56 of 315

سیرت طیبہ — Page 56

تکلیف کی وجہ سے بہت افسوس ہے۔میرا تو یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے گم شدہ کا غذ سے بہتر مضمون لکھنے کی توفیق عطا فرمادے گا۔“ (سیرۃ المہدی جلد احصہ اول روایت نمبر ۲۹۲ صفحه ۲۶۱،۲۶۰) اس لطیف واقعہ سے ایک طرف حضرت مسیح موعود کے غیر معمولی جذبہ شفقت اور دوسری طرف اپنے آسمانی آقا کی نصرت پر غیر معمولی تو کل پر خاص روشنی پڑتی ہے غلطی حضرت مولوی نور الدین صاحب سے ہوئی تھی کہ ایک قیمتی مسودہ کی پوری حفاظت نہیں کی اور اسے ضائع کر دیا۔مگر حضرت مسیح موعود کی شفقت کا یہ مقام ہے کہ خود پریشان ہوئے جاتے ہیں اور معذرت فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب کو مسودہ گم ہونے سے اتنی تکلیف ہوئی ہے اور پھر تو کل کا یہ مقام ہے کہ ایک مضمون کی فصاحت و بلاغت اور اس کے معنوی محاسن پر ناز ہونے کے باوجود اس کے کھوئے جانے پر کس استغناء کے رنگ میں فرماتے ہیں کہ کوئی فکر کی بات نہیں خدا ہمیں اس سے بہتر مضمون عطا فرما دے گا! یہ شفقت اور یہ توکل اور یہ حمل خدا کے خاص بندوں کے سواکسی اور میں پا یا جا ناممکن نہیں۔(1+) ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم کا ایک قریبی عزیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان میں آکر کچھ عرصہ رہا تھا ایک دن سردی کے موسم کی وجہ سے ہمارے نانا جان مرحوم نے اپنا ایک مستعمل کوٹ ایک