سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 55 of 315

سیرت طیبہ — Page 55

تھے۔چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اپنی تصنیف سیرۃ مسیح موعود میں حضرت مولوی نور الدین صاحب ( خلیفہ اول) کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی شفقت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :۔ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ جن دنوں حضرت مسیح موعودا اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام کا عربی حصہ لکھ رہے تھے۔حضور نے مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کو ایک بڑا دو ورقہ اس زیر تصنیف کتاب کے مسودہ کا اس غرض سے دیا کہ فارسی میں ترجمہ کرنے کے لئے مجھے پہنچا دیا جائے۔وہ ایسا مضمون تھا کہ اس کی خدا داد فصاحت و بلاغت پر حضرت کو ناز تھا۔مگر مولوی صاحب سے یہ دو ورقہ کہیں گر گیا۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے ہر روز کا تازہ عربی مسودہ فارسی ترجمہ کے لئے ارسال فرمایا کرتے تھے اس لئے اس دن غیر معمولی دیر ہونے پر مجھے طبعا فکر پیدا ہوئی اور میں نے مولوی نور الدین صاحب سے ذکر کیا کہ آج حضرت کی طرف سے مضمون نہیں آیا اور کا تب سر پر کھڑا ہے اور دیر ہورہی ہے معلوم نہیں کیا بات ہے یہ الفاظ میرے منہ سے نکلنے تھے کہ مولوی نورالدین صاحب کا رنگ فق ہو گیا۔کیونکہ یہ دو ورقہ مولوی صاحب سے کہیں گر گیا تھا۔بے حد تلاش کی مگر مضمون نہ ملا اور مولوی صاحب سخت پریشان تھے۔حضرت مسیح موعود کو اطلاع ہوئی تو حسب معمول ہشاش بشاش مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے اور خفا ہونا یا گھبراہٹ کا اظہار کرنا تو در کنار الٹا اپنی طرف سے معذرت فرمانے لگے کہ مولوی صاحب کو مسودہ کے گم ہونے سے ناحق تشویش ہوئی مجھے مولوی صاحب کی