سیرت طیبہ — Page 46
ایک پیشگوئی پوری ہوئی ہے اور اسلام کی صداقت کا ایک زبر دست نشان ظاہر ہوا ہے طبعا شکر اور خوشی کا اظہار فرمایا وہاں آپ کو پنڈت جی کی موت کا افسوس بھی ہوا کہ وہ صداقت سے محروم ہونے کی حالت میں ہی چل بسے۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔” ہمارے دل کی اس وقت عجیب حالت ہے۔درد بھی ہے اور خوشی بھی۔درد اس لئے کہ اگر لیکھرام رجوع کرتا زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرتا کہ وہ بدزبانیوں سے باز آجا تا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کیلئے دعا کرتا۔اور میں امید رکھتا تھا کہ اگر وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تب بھی زندہ ہو جاتا۔(سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۲۸) (۴) ایک دفعہ بعض عیسائی مشنریوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اقدام قتل کا سراسر جھوٹا مقدمہ دائر کیا اور ان مسیحی پادریوں میں ڈاکٹر مارٹن کلارک پیش پیش تھے۔مگر خدا نے عدالت پر آپ کی صداقت کھول دی اور آپ اس مقدمہ میں جس میں عیسائیوں کے ساتھ مل کر آریوں اور بعض غیر احمد یوں مخالفین نے بھی آپ کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا کہ کسی طرح آپ سزا پا جائیں عزت کے ساتھ بری کئے گئے۔جب عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا تو کیپٹن ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے جو بعد میں کرنیل کے عہدہ تک پہنچے اور ابھی حال ہی میں فوت ہوئے ہیں آپ سے