سیرت طیبہ — Page 33
اگر اے منکر و تم محمد کی صداقت کی دلیل چاہتے ہو تو دلیلیں تو بے شمار ہیں مگر مختصر رستہ یہ ہے کہ اس کے عاشقوں میں داخل ہو جاؤ کیونکہ محمد کا وجوداس کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے واللہ اگر آپ کے رستہ میں مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور میرے ذرہ ذرہ کو جلا کر خاک بنا دیا جائے تو پھر بھی میں آپ کے دروازے سے کبھی منہ نہیں موڑوں گا۔سواے محمد کی جان! تجھ پر میری جان قربان تو نے میرے روئیں روئیں کو اپنے عشق سے منور کر رکھا ہے۔“ (11) اسی طرح اپنی ایک عربی نظم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں انظر إلى برحمَةٍ وَتَحَتي يَا حِبْ إِنَّكَ قَدْ دَخَلْتَ مَحَبَّةٌ يَا سَيِّدِى أَنَا أَحْقَرُ الْغِلْمَانِ فِي مُهْجَتِي وَمَدَارِ كَي وَ جَنَّانٍ مِنْ ذِكْرِ وَجْهِكَ يَا حَدِيقَةً بَهْجَتِي لَمْ أَخُلُ فِي لَحْظِ وَلَا فِي ان جِسْمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا يَا لَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيَرَانِ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۴)