سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 32 of 315

سیرت طیبہ — Page 32

ایک نظم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کر کے فرماتے ہیں تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بارا ٹھا یا ہم نے اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے تیری الفت سے ہے معمور مرا ہر ذرہ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۲۵) (1+) یہ اسی عشق کا نتیجہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہر وہ منظوم اور منتثور کلام جو آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں رقم فرمایا ایسے شہد کے چھتے کا رنگ اختیار کیا گیا تھا جس میں سے شہد کی کثرت کی وجہ سے عَسَلٍ مُصفی کے قطرے گرنے شروع ہو جاتے ہیں چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں اور کس محبانہ انداز میں فرماتے ہیں کہ عجب نوریست در جان محمد عجب لعلیست در کان محمد اگر خواہی دلیلے عاشقش باش محمد مہست برہان محمد دریں رہ گر کشندم در بسوزند تابم روز ایوان محمد تو جان ما منور کردی از عشق فدایت جانم اے جان محمد آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۴۹) د یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں خدا نے عجب نور ودیعت کر رکھا ہے اور آپ کی مقدس کان عجیب و غریب جواہرات سے بھری پڑی ہے۔سو