سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 300 of 315

سیرت طیبہ — Page 300

گھوڑے جو تنے کی بجائے اس کے اکرام و احترام کی غرض سے اُس کی گاڑی میں خود لگ جاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے اس کی گاڑی کو کھینچتے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ آخری ایام میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لے گئے تو چند جو شیلے احمدی نوجوانوں کو دنیا کی نقل میں خیال آیا کہ ہم بھی اپنے پیارے امام کو گاڑی میں بٹھا کر اُس کی گاڑی کو خود اپنے ہاتھوں سے کھینچیں اور اس طرح اپنی دلی محبت اور عقیدت کا ثبوت دیں چنانچہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ آج ہم حضور کی گاڑی کو کھینچنے کا شرف حاصل کریں گے لیکن حضرت مسیح موعود نے اس تجویز کو نا پسندیدگی کے ساتھ رڈ فرما دیا اور نوجوانوں کی تربیت کے لئے فرمایا ”ہم انسانوں کو حیوان بنانے کے لئے دنیا میں نہیں آئے بلکہ حیوانوں 66 کو انسان بنانے کے لئے آئے ہیں۔“ روایات میاں عبد العزیز صاحب مغل بحوالہ حیات طیبہ ص ۴۵۶، ۴۵۷) یہ ایک سادہ سابے ساختہ نکلا ہوا کلام ہے مگر ان الفاظ سے حضرت مسیح موعود کے قلب صافی کے ان گہرے جذبات پر کتنی لطیف روشنی پڑتی ہے جو آپ اپنے آسمانی آقا کی طرف سے لے کر دنیا میں نازل ہوئے تھے۔اگر کوئی دنیا دار انسان ہوتا تو نوجوانوں کی اس پیشکش پر خوش ہوتا اور اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا مگر اس آئینہ جمال“ کی شان دیکھو کہ اس کے نزدیک اس کے نفس کی عزت کا کوئی سوال نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف اُس پیغام کی عزت کا سوال تھا جو وہ خدا کی طرف سے لے کر آیا