سیرت طیبہ — Page 288
ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ۲۸۸ بیادر بزمِ مستان تا به بینی عالمی دیگر بہشتے دیگر و ابلیس دیگر آدمی دیگر د یعنی خدا کی محبت میں مخمور ہوکر اس کے عاشقوں کے زمرہ میں داخل ہو جاؤ پھر تمیں اس مادی دنیا کے علاوہ ایک بالکل اور دنیا نظر آئے گی جس کا 66 بہشت بھی اور ہے اور ابلیس بھی اور ہے اور آدم بھی اور ہے۔“ (٢٠) دوسرے نیک لوگوں نے تو اپنی اپنی استعداد اور اپنی اپنی روحانی طاقت کے مطابق بہشت دیکھے ہوں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کا بہشت کلیۂ خدا کی ذاتِ والا صفات میں مرکوز تھا۔آپ خدا کے عشق میں اس قدر محو اور مخمور تھے کہ جزا اور سزا کے خیال سے اس طرح بالا ہو گئے تھے جس طرح کہ آسمان کا ایک بلند ستارہ زمین کی پستیوں سے بالا ہوتا ہے۔میں آپ کے اس بے مثال عشق کی چند مثالیں اپنی تقریر سیرۃ طیبہ میں بیان کر چکا ہوں جس میں محبت الہی اور عشق رسول کا مضمون میری تقریر کا مرکزی نقطہ تھا۔آپ کا نفس اس طرح نظر آتا تھا کہ گویا وہ ایک عمدہ اسفنج کا ٹکڑا ہے جس میں خدا کی محبت کے سوا کسی اور کی محبت کے لئے جگہ باقی نہ تھی۔ایک جگہ آپ اللہ تعالیٰ کے عشق میں متوالے ہو کر فرماتے ہیں کہ