سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 275 of 315

سیرت طیبہ — Page 275

۲۷۵ (14) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی غیر معمولی جمالی صفات اور آپ کے بے مثال حسن و احسان کے باوجود خدائی سنت کے مطابق دنیا کی ہر قوم نے حضرت مسیح موعود کی انتہائی مخالفت کی اور کوئی دقیقہ آپ کو تکلیف پہنچانے اور نا کام رکھنے کا اٹھا نہیں رکھا اور ہر رنگ میں اپنے دروازے آپ پر بند کر دیئے۔میں اس تعلق میں ایک چھوٹا سا دلچسپ واقعہ بیان کرتا ہوں۔۱۹۰۵ء کی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود دہلی تشریف لے گئے جو آپ کی زوجہ مطہرہ یعنی ہماری اماں جان رضی اللہ عنھا کا مولد ومسکن تھا۔مگر یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ وہاں جانے سے پہلے حضور نے ایک رؤیا دیکھا کہ حضور دتی گئے ہیں لیکن حضور نے وہاں کے سب دروازوں کو بند پایا ہے۔( تذکرہ ص ۵۶۸) چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب آپ دہلی پہنچے تو ساری قوموں کی طرف سے آپ کی شدید مخالفت کی گئی اور ہر قوم اور ہر طبقہ نے آپ پر اپنا دروازہ بند کر دیا۔بے شک لوگ ملنے کے لئے آتے تھے اور کافی کثرت کے ساتھ آتے تھے لیکن اکثر لوگ تو مخالفت کی غرض سے ہی آتے تھے اور انکار کی حالت میں ہی استہزاء کرتے ہوئے واپس لوٹ جاتے تھے۔اور بعض بر ملا مخالفت تو نہیں کرتے تھے مگر بزدلی کی وجہ سے خاموش رہتے تھے اور بعض جن کے دل میں کچھ ایمان کی چنگاری روشن ہوتی تھی وہ مملکتِ روما کے ہر قل کی طرح اُس چنگاری کو اپنے ہاتھ سے بجھا کر اپنی جھولی