سیرت طیبہ — Page 274
۲۷۴ یہ وہی مرزا نظام الدین صاحب ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بعض جھوٹے مقدمات کھڑے کئے اور اپنی مخالفت کو یہاں تک پہنچا دیا کہ حضرت مسیح موعود اور حضور کے دوستوں اور ہمسایوں کو دکھ دینے کے لئے حضور کی مسجد یعنی خدا کے گھر کا رستہ بند کر دیا۔اور بعض غریب احمدیوں کو ایسی ذلت آمیز اذیتیں پہنچا ئیں کہ جن کے ذکر تک سے شریف انسان کی طبیعت حجاب محسوس کرتی ہے۔(سیرت المہدی حصہ اوّل روایت نمبر ۱۳۰،۱۲۹ ) مگر حضور کی رحمت اور شفقت کا یہ عالم تھا کہ مرزا نظام الدین صاحب جیسے معاند کی بیماری کا علم پا کر بھی حضور کی طبیعت بے چین ہوگئی۔اس واقعہ سے حضور کے اس قول کی شاندار عملی تصدیق ہوتی ہے جسے میں نے گزشتہ سال کی تقریر میں بیان کیا تھا جس میں حضور فرماتے ہیں کہ ہمارا کوئی دشمن سے دشمن انسان بھی ایسا نہیں جس کے لئے ہم نے کم از کم دو تین دفعہ دعا نہ کی ہو ( ملفوظات جلد سوم ص ۹۶ وص ۹۷) اللہ اللہ ! کیا دل تھا اور اس دل نے خدائی رحمت کے وسیع سمندر سے کتنا حصہ پایا تھا!! کاش جماعت احمدیہ کے مرد اور عورتیں اور بچے اور بوڑھے اور خواندہ اور نا خواندہ خدا کی طرف سے اسی قسم کی رحمت کا ورثہ پائیں تا کہ وہ اس جمالی شان کا آئینہ بن جائیں جو آسمان کے خالق و مالک کی طرف سے حضرت مسیح موعود کو عطا کی گئی تھی۔آمین یا اَرْحَمَ الرّاحِمین۔