سیرت طیبہ — Page 227
۲۲۷ مثال ملنی مشکل ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل اور تقویٰ اور اخلاص اور خدمتِ دین کے مقام پر قائم رہے گی تو حضور کی دردمندانہ دعا ئیں جن کا ایک بہت بھاری خزانہ آسمان پر جمع ہے قیامت تک ہمارا ساتھ دیتی چلی جائیں گی۔اپنے بچوں کی آمینوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خصوصیت کے ساتھ اپنی اولاد کے لئے اس درد و سوز اور اس آہ و زاری کے ساتھ دعائیں کیں ہیں کہ میں جب بھی انہیں پڑھتا ہوں تو اپنے نفس میں شرمندہ ہو کر خیال کرتا ہوں کہ شاید ہماری کمزوریاں تو ان دعاؤں اور ان بشارتوں کی حقدار نہ ہوں مگر پھر کہتا ہوں کہ خدا کی دین کو کون روک سکتا ہے؟ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس عجیب وغریب شعر کو یاد کرتا ہوں کہ تیرے اے میرے مربی! کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار خدا کرے کہ ہم ہمیشہ نیکی اور دینداری کے رستہ پر قائم رہیں اور جب دنیا سے ہماری واپسی کا وقت آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان رضی اللہ عنھا کی روحیں ہمیں دیکھ کر خوش ہوں کہ ہمارے بچوں نے ہمارے بعد اپنے آسمانی آقا کا دامن نہیں چھوڑا۔دوستوں سے بھی میری یہی درخواست ہے کہ جہاں وہ اپنی اولاد کے لئے دین و دنیا کی بہتری کی دعا کریں ( اور کوئی احمدی کسی حالت میں بھی اس دعا کی طرف سے غافل نہیں رہنا چاہیئے ) وہاں وہ ہمارے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ صدق وسداد پر قائم رکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان دعاؤں کو جو حضور نے اپنی اولاد کے لئے فرمائی ہیں اور نیز ان دعاؤں کو جو حضور