سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 202 of 315

سیرت طیبہ — Page 202

۲۰۲ مضبوط دلوں کو خوشی کے جذبات سے لبریز کرنے کے لئے کافی ہے۔فرماتے ہیں كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَاِمَامُكُمْ مِنْكُمْ (بخاری) د یعنی اے مسلمانو! تمہارے لئے وہ دن کیسا خوشی کا دن ہو گا کہ جب میری امت کا مسیح ابن مریم تم میں نازل ہوگا اور وہ تمہیں میں سے تمہارا امام ہوگا۔مگر یا درکھنا چاہیے کہ خدا کا ہر کام ابتداء میں ایک بیج کے طور پر ہوتا ہے جسے لوگ دیکھ کر شروع میں بالکل حقیر سمجھتے اور اس پر ہنسی اڑاتے ہیں مگر بالآخر وہی چھوٹا سا بیج آہستہ آہستہ ایک بڑا تناور درخت بن جاتا ہے جس کی شاخوں کے نیچے تو میں آرام پاتیں اور پناہ لیتی ہیں۔حضرت عیسی کے آغاز کو دیکھو کہ شروع میں ان کے مشن کی ابتداء کس قدر کمزور اور کتنی مایوس کن تھی مگر اب ان کے پیرو ساری دنیا پرسیل عظیم کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔بلکہ حضرت سرور کائنات فخر رسل ہی کے آغاز کو دیکھو کہ یہ بنی نوع آدم کا سالار اعظم شروع میں مکی کی گلیوں میں کس کمزوری اور کس مپرسی کی حالت میں پھرتا تھا اور مکہ کے قریش اس پر ہنسی اڑاتے تھے مگر جب یہ بظاہر چھوٹا سا پیچ عرب کی زمین میں سے پھوٹ کر نکلا تو کس طرح دیکھتے ہی دیکھتے تمام معلوم دنیا پر رحمت کا بادل بن کر چھا گیا۔یہی ترقی انشاء اللہ اسلام کے لئے احمدیت کے دور میں مقدر ہے۔جو لوگ زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس جلال اور کس یقین کے ساتھ فرماتے ہیں :- ”دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا۔اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں