سیرت طیبہ — Page 197
۱۹۷ پانا اور وحی و الہام کے ذریعہ اس زبان میں کمال حاصل کرنا اور خدا کی طرف سے چالیس ہزار عربی لغات کا سکھایا جانا ایک زبانی دعوی نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا دعویٰ تھا جس کی صداقت پر آپ کے سارے مخالفوں نے انتہائی مخالفت کے باوجود اپنی خاموشی بلکہ اپنے گریز کے ساتھ مہر لگا دی اور کوئی ایک فرد واحد بھی اس چیلنج کو قبول کرنے کے لئے آگے نہیں آیا بلکہ آپ کا یہ دعوئی تو ایسا شاندار دعوی تھا کہ اس پر سمجھدار غیر احمدی علماء تک نے واضح الفاظ میں آپ کی تصدیق کی اور آپ کی تعریف فرمائی ہے۔چنانچہ برعظیم ہندو پاکستان کے ایک بڑے عالم اور غیر احمدی مفکر علامہ نیاز فتح پوری اپنے اخبار ” نگار میں لکھتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کی عربی دانی سے مخاطب کا انکار کرنا حیرت کی بات ہے شاید آپ کو معلوم نہیں کہ مرزا صاحب کے عربی کلام نظم و نثر کی فصاحت و بلاغت کا اعتراف خود عرب کے علماء اور فضلاء نے کیا ہے حالانکہ انہوں نے کسی مدرسہ میں عربی ادبیات کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب کا یہ کارنامہ بڑا ز بر دست ثبوت ان کے فطری اور وہی کمالات کا ہے۔(اخبار نگار لکھنو ستمبر ۱۹۶۱ء) اس جگہ جو کچھ عرب ممالک کے متعلق بیان کیا گیا ہے اس میں حاشا وکلا ہرگز عرب اقوام کی تحقیر مقصود نہیں۔عرب تو خدا کے فضل سے دین کے معاملہ میں ہمارے اولین استاد ہیں اور ہم نے بلکہ دنیا بھر نے دین کا پہلا سبق عربوں سے ہی سیکھا تھا اور عرب قوم میں ہی تاریخ عالم کا وہ افضل ترین انسان یعنی حضرت خیر الرسل سید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوا جس کے سامنے سب اولین و آخرین کی گردنیں خم ہوتی ہیں