سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 170 of 315

سیرت طیبہ — Page 170

(۴) اسلام کی سکھائی ہوئی کامل اور بے داغ تو حید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیع اور ارفع اخلاق فاضلہ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک فطرت پر اتنا گہرا اثر تھا کہ آپ کے لئے ساری دنیا بلا امتیاز قوم وملت ایک خاندان کا رنگ اختیار کر گئی تھی اور آپ سب کو حقیقتہ اپنے عزیزوں کی طرح سمجھتے تھے اور دشمنوں تک سے محبت رکھتے اور ان کے دلی خیر خواہ تھے چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں :۔” بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے بھی دعا نہ کی جائے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا۔۔۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی سے مسلمان ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے۔۔۔شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے (ہم نے ) دو تین مرتبہ دعا نہ کی ہو۔ایک بھی ایسا نہیں۔اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں۔۔۔۔۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تمہیں چاہیئے کہ تم ایسی قوم بنو جس کی نسبت آیا ہے کہ فَانهُمْ قَوْم لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ ان کا ہم جلیس (اور اُن کے ساتھ ملنے جلنے والا ) بد بخت نہیں ہوتا“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۹۶ و ۹۷ ماخوذ از الحکم ۱۷ راگست ۱۹۰۲ء) خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ سن لیں کہ وہ دنیا میں اسی طرح دشمنوں کے بھی