سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 159 of 315

سیرت طیبہ — Page 159

۱۵۹ (1) میں نے اس سال کی تقریر کا نام دُرِ مکنون“ رکھا ہے یعنی ” غلافوں میں لیٹے ہوئے موتی۔اس نام میں یہ اشارہ کرنا مقصود ہے کہ گو اس وقت دنیا نے حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کو قبول نہیں کیا لیکن وقت آتا ہے کہ آپ کے لائے ہوئے بیش بہا موتیوں پر سے پردے اترنے شروع ہوں گے اور لوگوں کی آنکھوں میں بھی نور کی جھلک پیدا ہوگی تو پھر دنیا ان کی قدر و قیمت کو پہچانے گی کیونکہ وہ خدا کی طرف سے ہمیشگی کی ضمانت لے کر آئے ہیں۔اور اس کے بعد جوں جوں زمانہ گزرے گا توں توں ان کی قدر و قیمت کی بلندی اور ان کے افادہ کی وسعت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔حضرت مسیح موعود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑے درد و کرب کے ساتھ فرماتے ہیں کہ :- امروز قوم من نشناسد مقام من روزے بگریہ یاد کند وقت خوشترم ازالہ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۸۴) د یعنی آج میری قوم نے میرے مقام کو نہیں پہچانا لیکن وہ دن آتا ہے 66 کہ میرے مبارک اور خوش بخت زمانہ کو یاد کر کر کے لوگ رویا کریں گے۔“ یا درکھنا چاہیے کہ اس جگہ قوم سے جماعت احمدیہ مراد نہیں کیونکہ وہ تو حضرت مسیح موعود پر ایمان لا کر حضور کو شناخت کر چکی اور پہچان چکی ہے گو مختلف احمدیوں کی