سیرت طیبہ — Page 160
17۔شناخت کے معیار میں بھی فرق ہے ) بلکہ اس جگہ قوم سے دوسرے مسلمان اور عیسائی اور ہندو اور بدھ اور سکھ اور دنیا کی تمام دوسری اقوام مراد ہیں جو اس وقت تک آپ کی شناخت سے محروم ہیں۔یہ وہی دردناک ڈرامہ ہے جو ہر مرسل ربانی اور ماموریز دانی کے منکروں نے اپنے اپنے وقت میں کھیلا کہ جب کسی روحانی مصلح نے خدا کی طرف سے ہو کر اصلاح خلق کا دعوی کیا اور اس کا دل دنیا کی ناپاکیوں پر پگھل کر خدا کے حضور جھکا اور دنیا میں ایک پاک تبدیلی کا متمنی ہوا تو اس کی قوم نے اس کی مخالفت کی اور اس پر ہنسی اڑائی اور اس کے مقابلہ پر ڈٹ گئی اور اسے تباہ کرنے کے درپے ہوگئی لیکن جب مخالفت کا ابتدائی زمانہ گزر گیا تو بعد کی نسلوں میں آہستہ آہستہ مدعی کی صداقت کا شعور پیدا ہونے لگا اور اولا عمومی قدر شناسی اور بعدہ معین تصدیق کے جذبات ابھر نے شروع ہوئے اور دن بدن ترقی کرتے گئے۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اپنے نامور پیشر و حضرت مسیح ناصری کی مثال دے کر فرماتے ہیں اور غور کر وکس شان سے فرماتے ہیں کہ :- مجھ سے پہلے ایک غریب انسان مریم کے بیٹے سے یہودیوں نے کیا کچھ نہ کیا اور کس طرح اپنے گمان میں اُس کو سولی دے دی۔مگر خدا نے اس کو سولی کی موت سے بچایا۔۔۔۔اور یا ( بعد میں ) وہ وقت آیا کہ۔۔۔۔وہی یسوع مریم کا بیٹا اس عظمت کو پہنچا کہ اب چالیس کروڑ انسان اُس کو سجدہ کرتے ہیں۔اور بادشاہوں کی گردنیں اُس کے نام کے آگے جھکتی ہیں۔سو میں نے اگر چہ یہ دعا کی ہے کہ یسوع ابن مریم کی طرح شرک کی ترقی کا ئیں