سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 150 of 315

سیرت طیبہ — Page 150

66 ظاہر کر کے دکھا دیتا ہے۔“ ۱۵۰ (ذکر حبیب مرتبہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ص ۱۷۹) (۳۱) اپنی وفات کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دعا کی طرف بیش از پیش توجہ پیدا ہوگئی تھی۔کیونکہ ایک طرف خدائی طاقتوں کی وسعت اور دوسری طرف انسانی کوششوں کی بے بضاعتی کے منظر نے آپ کی حقیقت شناس آنکھوں کو زیادہ سے زیادہ آسمان کی طرف اٹھانا شروع کر دیا تھا۔چنانچہ آپ نے اپنی حیاۃ طیبہ کے آخری ایام میں اپنے رہائشی کمرے کے ساتھ خلوت کی دعاؤں کے لئے ایک خاص حجرہ تعمیر کرایا اور اس کا نام بیت الدعا رکھا تا کہ اس میں آپ اسلام کی ترقی اور اپنے خدا دادمشن کی کامیابی کے لئے خصوصیت کے ساتھ دعائیں کرسکیں اور اپنے آسمانی آقا کے حضور سرخرو ہو کر پہنچیں، اس بارے میں آپ کے مخلص صحابی حضرت مفتی محمد صادق صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ:- ”ہم نے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں۔ستر سال کے قریب عمر سے گذر چکے ہیں۔موت کا وقت مقرر نہیں۔خدا جانے کس وقت آجائے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی ہے۔ادھر قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی ہے۔رہی سیف سواس کے واسطے خدا تعالیٰ کا اذن اور منشاء نہیں۔لہذا ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا اور خدا سے دعا