سیرت طیبہ — Page 149
۱۴۹ (۳۰) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنے خداداد فرائض کی ادائیگی میں بھی اصل بھروسہ دعا پر تھا جو فقر ہی کا دوسرا نام ہے کیونکہ جس طرح اہلِ فقر ایک حد تک دنیا کے سہاروں سے کام لینے کے باوجود اصل بھر وسہ خدا کی غیبی نصرت پر رکھتے ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے اسلام کی خدمت اور صداقت کی اشاعت میں تمام ظاہری تدابیر کو کام میں لانے اور جہاد فی سبیل اللہ کی کوشش کو انتہاء تک پہنچانے کے باوجود اپنا اصل بھروسہ دعا یعنی نصرت الہی کی طلب پر رکھا۔آپ کے قلمی جہاد کا لوہا دنیا مانتی ہے جس نے مذہبی مباحث کا بالکل رنگ بدل دیا۔اور اسلام کے مقابل پر عیسائیوں اور آریوں اور دہریوں کے دانت کھٹے کر دیئے اور آپ کے مخالفوں تک نے آپ کو فتح نصیب جرنیل“ کے لقب سے یادکیا۔( اخبار وکیل‘امرتسر جون ۱۹۰۸ء) مگر باوجود اس کے آپ نے اپنا اصل حربہ ہمیشہ دعا کو قرار دیا اور اپنی ظاہری کوششوں کو خدا کی نصرت کے مقابل پر بیج سمجھتے ہوئے ساری عمر یہی اعتراف کرتے رہے کہ جو کچھ ہو گا دعا ہی سے ہوگا۔چنانچہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ وو دعا میں اللہ تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔خدا نے مجھے بار بار یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہو گا دعا ہی کے ذریعہ ہوگا۔ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اس کے سوا کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔جو کچھ ہم پوشیدہ مانگتے ہیں خدا اس کو