سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 148 of 315

سیرت طیبہ — Page 148

۱۴۸ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور کے وصال کا واقعہ اس وقت پچاس سال گزرنے پر بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے گویا کہ میں حضور کے سفر آخرت کی ابتداء اب بھی اپنی آنکھوں۔دیکھ رہا ہوں مگر اس وقت مجھے اس واقعہ کی تفصیل بتانی مقصود نہیں بلکہ صرف یہ اظہار مقصود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیوی مال و متاع کے لحاظ سے بعینہ اُس حالت میں فوت ہوئے جس میں کہ آپ کے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں جو کہ مرض الموت تھی جلدی جلدی مسجد سے اٹھ کر اپنے گھر تشریف لے گئے اور جو تھوڑا سا مال وہاں رکھا تھا وہ تقسیم کر کے اپنے آسمانی آقا کے حضور حاضر ہونے کے لئے خالی ہاتھ ہو گئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے بھی اپنی زندگی کے آخری دن اپنی جھولی جھاڑ دی تا کہ اپنے آقا کے حضور خالی ہاتھ ہو کر حاضر ہوں۔بیشک اسلام دنیا کی نعمتیں حاصل کرنے اور ان کے لئے مناسب کوشش کرنے سے نہیں روکتا بلکہ قرآن خود حسنات دارین کی دعا سکھاتا ہے مگر انبیاء اور اولیاء کا مقام فقر کا مقام ہوتا ہے جس میں یہ پاک گروہ صرف خدا کا نوکر بن کر قوت لا یموت پر زندگی گذارنا چاہتا ہے۔اسی لئے نبیوں کے سرتاج حضرت افضل الرسل خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے دین و دنیا کا بادشاہ ہوتے ہوئے بھی اپنے لئے فقر کی زندگی پسند کی اور ہمیشہ یہی فرمایا کہ الْفَقْرُ فَخْرِى و یعنی فقر کی زندگی میرے لئے فخر کا موجب ہے۔“