سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 128 of 315

سیرت طیبہ — Page 128

۱۲۸ ساتھ جزئیات کی چاشنی بھی قائم رہے۔اور میں اب انہی کی طرف پھر دوبارہ رجوع کرتا ہوں۔(۲۱) غالباً ۱۶ / ۱۹۱۵ء کی بات ہے کہ قادیان میں آل انڈیا ینگ مین کرسچین ایسوسی ایشن کے سیکرٹری مسٹر ایچ۔اے والٹر تشریف لائے۔ان کے ساتھ لاہور کے ایف سی کالج کے وائس پرنسپل مسٹر لوکاس بھی تھے۔مسٹر والٹر ایک کٹر سیحی تھے اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق ایک کتاب لکھ کر شائع کرنا چاہتے تھے جب وہ قادیان آئے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملے اور تحریک احمدیت کے متعلق بہت سے سوالات کرتے رہے اور دوران گفتگو میں کچھ بحث کا سارنگ بھی پیدا ہو گیا تھا۔اس کے بعد انہوں نے قادیان کے مختلف ادارہ جات کا معائنہ کیا اور بالآ خر مسٹر والٹر نے خواہش ظاہر کی کہ میں بانی سلسلہ احمدیہ کے کسی پرانے صحبت یافتہ عقیدت مند کو دیکھنا چاہتا ہوں۔چنانچہ قادیان کی مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک قدیم اور فدائی صحابی منشی محمد اروڑ ا صاحب سے ان کی ملاقات کرائی گئی ، اس وقت منشی صاحب مرحوم نماز کے انتظار میں مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔رسمی تعارف کے بعد مسٹر والٹر نے منشی صاحب موصوف سے دریافت کیا کہ آپ مرزا صاحب کو کب سے جانتے ہیں اور آپ نے ان کو کس دلیل سے مانا اور ان کی کس بات نے آپ پر زیادہ اثر کیا۔