سیرت طیبہ — Page 124
۱۲۴ (19) دوسرے نبیوں کی نبوت تو سب مسلمانوں میں مسلم ہی ہے چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل اور حضرت یعقوب اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہم السلام کے سامنے تمام مسلمانوں کی گردنیں عزت و احترام کے ساتھ جھکتی ہیں۔لیکن اس قرآنی اصول کے مطابق کہ خدا تعالیٰ نے ہر ملک وقوم میں مختلف وقتوں میں اپنے رسول بھیجے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدائی انکشاف کے ماتحت ہندوستان کے مشہور قدیم مصلح حضرت کرشن کی نبوت کو بھی تسلیم کیا اور انہیں ایک پاکباز خدا رسیدہ بزرگ کے طور پر پیش کی جو قرآنی زمانہ سے پہلے خدا کا ایک سچا نبی اور اوتار تھا اور اس طرح آپ نے الہی منشاء کے مطابق ایک اور بڑی قوم کو عالمگیر روحانی اخوت کے دائرہ میں کھینچ لیا۔بے شک کرشن جی کو ماننے والے لوگ اس وقت یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم (فَدَاهُ نَفْسِى) کے انکار کی وجہ سے ہدایت کے رستہ کو چھوڑ چکے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار صراحت فرمائی ہے کہ اس مذہب کی اصل صداقت پر قائم تھی اور کرشن خدا تعالیٰ کا ایک برحق رسول تھا جو قدیم زمانہ میں آریہ ورت کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا گیا تھا چنانچہ فرماتے ہیں راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشتی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور