سیرت طیبہ — Page 122
۱۲۲ (IA) لیکن اس عجیب و غریب دوہرے سین (Scene) کے باوجود جس میں ایک طرف انتہائی مخالفت کا نظارہ ہے اور دوسری طرف انتہائی غلبہ کا منظر ہے حضرت مسیح موعود نے ہر قوم کے لئے صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھایا اور ہر مذہب وملت کے بانی کو انتہائی عزت و اکرام سے یادرکھا بلکہ آپ نے عالمگیر امن اور صلح کی بنیادر کھتے ہوئے قرآن مجید سے یہ زریں اصول استدلال کر کے پیش کیا کہ چونکہ خدا ساری دنیا کا خدا ہے اس لئے اس نے کسی قوم سے بھی سوتیلے بیٹوں والا سلوک نہیں کیا بلکہ ہر قوم کی طرف رسول بھیجے اور ہر طبقہ کی ہدایت کا سامان مہیا کیا چنانچہ قرآن واضح الفاظ میں فرماتا ہے کہ وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُ (الفاطر : ٢٤) بھیجا ہو۔“ یعنی دنیا کی کوئی قوم بھی ایسی نہیں جس کی طرف خدا نے کوئی مصلح نہ لیکن خدا کی واحدانیت کا یہ تقاضا تھا کہ جب مختلف قوموں میں ترقی کا شعور پیدا ہو جائے اور ان کے دماغی قوی پختگی حاصل کرنے لگیں اور ایک عالمگیر شریعت کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت کا زمانہ آجائے اور دنیا کی منتشر قوموں کو ایک دوسرے کی طرف حرکت پیدا ہو اور رسل و رسائل کے وسائل بھی وسیع ہونے شروع ہو جائیں تو پھر حضرت افضل الرسل خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک دائمی اور عالمگیر شریعت نازل کر کے اور بالآخر آپ کے نائب حضرت مسیح موعود کے ذریعہ اس