سیرت طیبہ — Page 116
اس پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ان کے پاس علاج نہیں مگر خدا کے پاس تو علاج ہے۔“ چنانچہ حضور نے بڑے درد کے ساتھ اس بچے کی شفا یابی کے لئے دعا فرمائی اور ظاہری علاج کے طور پر خدائی القاء کے ماتحت کچھ دوا بھی دی۔خدا کی قدرت سے یہ بچہ حضور کی دعا سے بالکل تندرست ہو گیا یا یوں کہو کہ مردہ زندہ ہو گیا اور اس کے بعد وہ کافی لمبی عمر پا کر فوت ہوا۔تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۸۱ تلخیص) اس واقعہ کے تعلق میں ایک اور ضمنی واقعہ بھی دلچسپ اور قابل ذکر ہے۔میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب مرحوم جب لاہور میڈیکل کالج میں پڑھتے تھے اور کلاس میں ہائیڈروفوبیا کی بیماری کا ذکر آیا تو حبیب اللہ شاہ صاحب مرحوم نے اپنے ایک ہم جماعت طالب علم سے عبد الکریم کا واقعہ بیان کیا۔ان کے کلاس فیلو نے ضد میں آکر ان سے کہا کہ یہ کوئی بات نہیں ہائیڈ روفوبیا کا علاج بھی ہوسکتا ہے۔سید حبیب اللہ شاہ صاحب نے دوسرے دن اپنے کلاس فیلو کا نام لینے کے بغیر مگر اس کے سامنے اپنے انگریز پروفیسر سے پوچھا کہ اگر کسی شخص کو دیوانہ کتا کاٹ لے اور اس کے نتیجہ میں اسے بیماری کا حملہ ہو جائے تو کیا اس کا بھی کوئی علاج ہے؟ پروفیسر صاحب نے چھٹتے ہی جواب دیا کہ نتھنگ آن ارتھ کین سیو ہم (Nothing on earth can save him) دو یعنی اسے دنیا کی کوئی طاقت بچا نہیں سکتی۔“