سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 105 of 315

سیرت طیبہ — Page 105

۱۰۵ ان کے علم اور نیکی اور شرافت اور خاندانی وجاہت کی وجہ سے ان کا اتنا اثر تھا کہ کابل میں امیر حبیب اللہ خان کی تاجپوشی کی رسم انہوں نے ہی ادا کی تھی۔ان کا نام صاحبزادہ مولوی سید عبد اللطیف صاحب تھا۔صاحبزادہ صاحب نے جب یہ سنا کہ قادیان میں ایک شخص نے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو وہ تلاش حق کے لئے کابل سے قادیان تشریف لائے اور حضرت مسیح موعود کی ملاقات سے مشرف ہوئے اور چونکہ صحیح فراست اور نیک فطرت رکھتے تھے انہوں نے آتے ہی سمجھ لیا کہ حضرت مسیح موعود کا دعوی سچا ہے اور بیعت میں داخل ہو گئے۔چند ماہ کے قیام کے بعد جب وہ وطن واپس جانے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے طریق کے مطابق انہیں رخصت کرنے کے لئے کافی دور تک بٹالہ کے رستہ پر ان کے ساتھ گئے اور جب جدائی کا آخری وقت آیا تو صاحبزادہ صاحب غم سے اتنے مغلوب تھے کہ زار زار روتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے قدموں میں گر گئے۔حضرت مسیح موعود نے ان کو بڑی مشکل سے یہ فرماتے ہوئے زمین سے اٹھایا کہ الْأَمْرُ فَوْقَ الْأَدَبِ اس وقت صاحبزادہ صاحب نے بڑی رقت سے عرض کیا۔حضرت! میرا دل کہتا ہے کہ میری موت کا وقت آگیا ہے اور میں اس زندگی میں آپ کا مبارک چہرہ پھر نہیں دیکھ سکوں گا۔“ (سیرۃ المہدی جلد اوّل صفحه ۲۳۶ شمائل مصنفہ حضرت عرفانی صاحب) چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ کابل پہنچنے پر امیر حبیب اللہ خان نے کابل کے ملانوں کے فتوے کے مطابق ان کو اولا بار بار توبہ کرنے کے لئے کہا اور سخت ترین سزا کی دھمکی کے علاوہ طرح طرح کے لالچ بھی دیے مگر جب انہوں نے سختی سے انکار کیا اور