سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 13
ایک انسان دنیا میں آیا جو محمد کہلا یا صلی اللہ علیہ وسلم۔( ملفوظات جدید ایڈیشن، جلد اول صفحه ۴۲۰-۴۲۱) حضرت رسول مقبول، خاتم النبیین ،محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مندرجہ بالا عظمت شان اور فضیلت تامہ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود کی ایک روح پرور اور دلنشین تحریر ملاحظہ فرمائیں۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل الانبیاء اور سب رسولوں سے بہتر اور بزرگ تر تھے اور خدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ جیسے آنحضرت اپنے ذاتی جوہر کے رُو سے فی الواقعہ سب انبیاء کے سردار ہیں ایسا ہی ظاہری خدمات کے رُو سے بھی ان کا سب سے فائق اور برتر ہونا دنیا پر ظاہر اور روشن ہو جائے اس لئے خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو کافہ بنی آدم کے لئے عام رکھا تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محنتیں اور کوششیں عام طور پر ظہور میں آویں۔موسیٰ اور ابن مریم کی طرح ایک خاص قوم سے مخصوص نہ ہوں اور تاہر یک طرف سے اور ہر یک گروہ اور قوم سے تکالیف شاقہ اُٹھا کر اس اجر عظیم کے مستحق ٹھہر جائیں کہ جو دوسرے نبیوں کو نہیں ملے گا۔( براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد نمبر ۱ صفحه ۶۵۳، ۶۵۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات تمام خوبیوں کا مجموعہ تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچپن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوانی اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ آپ کو نیکی سے پیار تھا اور تقویٰ کی باریک راہوں پر گامزن تھے۔سچ ہے مشک آنست که خود ببوید نہ کہ عطار بگوید۔چنانچہ آپ کی قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسالت عظمی پر فائز کئے جانے سے قبل ہی امین اور صدیق کا خطاب دے دیا تھا۔اس بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ دیبا چ تفسیر القرآن میں فرماتے ہیں۔۔۔۔پس محض کسی شخص کا امانت دار اور صادق ہونا اس کی عظمت پر خاص روشنی نہیں ڈالتا لیکن کسی شخص کو ساری قوم کا امین اور صدیق کا خطاب دے دینا۔یہ ایک غیر معمولی بات ہے اگر مکہ کے لوگ ہر نسل کے لوگوں میں سے کسی کو امین اور صدیق کا خطاب دیا کرتے تب بھی امین اور 13