سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 14
صدیق کا خطاب پانے والا بہت بڑا آدمی سمجھا جاتا لیکن عرب کی تاریخ بتاتی ہے کہ عرب لوگ ہر نسل میں کبھی کسی آدمی کو یہ خطاب نہیں دیا کرتے تھے بلکہ عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں صرف ایک ہی مثال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اہل عرب نے امین اور صدیق کا خطاب دیا۔پس عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں قوم کا ایک ہی شخص کو امین اور صدیق کا خطاب دینا بتاتا ہے کہ اس کی امانت اور اس کا صدق دونوں اتنے اعلیٰ درجہ کے تھے کہ ان کی مثال عربوں کے علم میں کسی اور شخص میں نہیں پائی جاتی تھی۔عرب اپنی باریک بینی کی وجہ سے دنیا میں ممتاز تھے۔پس جس چیز کو وہ نا در قرار دیں وہ یقینا دنیا میں نادر ہی سمجھے جانے کے قابل تھی۔(دیباچ تفسیر القرآن صفحه ۲۳۵،۲۳۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدائے ذوالعرش نے بھی یہ سند خوشنودی عطا فرمائی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) مُطَاعِ ثُمَّ آمِين ( سورۃ التکویر: ۲۲) ہیں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں سرکار دو عالم ہیں وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امین بھی ہیں نیز فرمایا: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوحَى (سورة النجم: ۴-۵) کہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے کلام نہیں کرتا بلکہ اس کا پیش کردہ کلام صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے۔اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امین ہونے کی زبر دست دلیل بھی خود دے دی اور فرمایا: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيمٍه ( سورة التكوير : ٢٠) کہ ہمارا پیارا محبوب رسول ایسے درست طریقہ سے ہمارا کلام دنیا تک پہنچاتا ہے اور اس امانت کا فرض ایسے احسن طریقہ سے انجام دیتا ہے کہ اس سے بڑھ کر امین اور صدیق کوئی نہیں ہو سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنے صدیق ہونے کی اپنی زبان معارف بیان 14