سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 7 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 7

سند عطا فرماتا ہے۔چنانچہ فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (سورة الانبياء: ۱۰۸) اس آیت کریمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جامعیت ، فضیلت اور عظمت بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام جہانوں کے لئے رحمت بنائے گئے ہیں۔جب کہ کسی دوسرے نبی کو یہ اعزاز عطا نہیں ہوا۔اس لئے خداوند کریم کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام دنیا کی طرف مبعوث ہونے کا اعلان کرنے کا حکم ہوا اس بارہ میں حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: اور ایسا ہی فرمایا۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (سورة الاعراف: ۱۵۹) قرآن شریف کے دوسرے مقامات پر غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اتنی فرمایا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے آپ کا کوئی اُستاد نہ تھا۔مگر بایں ہمہ کہ آپ اُمّی تھے۔حضور کے دین میں امیون اوسط درجہ کے آدمیوں کے علاوہ اعلیٰ درجہ کے فلاسفروں اور عالموں کو بھی کر دیا۔قل یا ایها الناس إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جميعًا کے معنی نہایت ہی لطیف طور پر سمجھ میں آسکتے ہیں۔جمیعا کے دو معنی ہیں۔اول تمام بنی نوع انسان یا تمام مخلوق۔دوم تمام طبقہ کے آدمیوں کے لئے یعنی متوسط ، ادنیٰ اور اعلیٰ درجہ کے فلاسفروں اور ہر ایک قسم کی عقل رکھنے والوں کے لئے غرض ہر عقل اور ہر مزاج کا آدمی مجھ سے تعلق کرسکتا ہے۔“ نیز حضور علیہ السلام نے فرمایا: وو ( ملفوظات جدید ایڈیشن ، جلد اول، صفحہ ۷۷) چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کل دنیا کے انسانوں کی روحانی تربیت کے لئے آئے تھے اس لئے یہ رنگ حضور علیہ الصلوۃ والسلام میں بدرجہ کمال موجود تھا۔اور یہی وہ مرتبہ ہے جس پر قرآن کریم نے متعدد مقامات پر حضور کی نسبت شہادت دی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابل اور اسی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات کا ذکر فرمایا 7