سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 86 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 86

کہ وہ اپنی والدہ کی خدمت میں مصروف ہونے کی وجہ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کو نہ آ سکے اور خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اویس قرنی کو سلام کا تحفہ بھجوایا۔ذ- عورت کے حقوق بطور بیٹی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت مبارکہ تک عربوں میں یہ رسم چلی آرہی تھی کہ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جاہلیت کی اس رسم کو گناہ عظیم اور گناہ کبیرہ انسانیت سوز ظلم قرار دے کر اس رسم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے کیا ہی خوب فرمایا: رکھ پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیوار میں روتی تھیں جب دنیا میں تو آتی تھی ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب وہ کچھ دنوں کے لئے گھر سے گیا ہوا تھا تو اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی اور اُس کی ماں نے اُسے کچھ سال چھپائے رکھا اور بڑے پیار و محبت سے پالا پوسا۔اور ایک دفعہ اُسے بناؤ سنگھار کر کے والد کو دکھایا۔اُس نے پھر بھی رحم نہ کیا اور اُس کو جنگل میں لے جا کر زندہ درگور کر دیا۔بچی ابا ابا پکارتی رہی۔جب اُس نے یہ واقعہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو فرط غم سے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو گرنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے روئے کہ دامن تر ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” ظالم تو نے کس طرح یہ فعل کیا جب کہ وہ تجھے پکارتی رہی ہائے ابا کیا کر رہے ہو!“۔(سنن دارمی صفحہ ا بحوالہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفحہ ۱۹۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض احادیث مبارکہ کی رو سے دو اور بعض میں تین بیٹیوں کی صحیح پرورش اور تعلیم وتربیت کرنے پر جنت کا مستحق قرار دیا۔اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: ”حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ ایک غریب عورت میرے پاس آئی اور اُس کے 86