سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 50
کے عقائد کی صحت کا اعلان کیا گیا وہاں پائم رہتک میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا بھی اظہار کیا گیا ہے رسول یہی کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا کیا گیا ہے اور میں اُسی کے نام کے ساتھ اپنے دعاوی تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۹، صفحه ۲۵۹) غرض پہلی وحی میں ہی پانسم رنگ کہہ کر ایک طرف تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقائد کی درستی کا اعلان کر دیا اور دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا بھی اعلان کر دیا اور بتا دیا کہ یہ جو کچھ کہتا ہے اپنی طرف سے نہیں کہتا۔بلکہ ہماری طرف سے کہتا ہے اس تشریح کو حوظ رکھتے ہوئے اقْرَأَبِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ کے یہ معنے ہوں گے کہ تو اپنے اس رب کے نام کا جس کو صرف تو ہی اس زمانہ میں صحیح طور پر سجھتا ہے دنیا میں اعلان کر اور لوگوں کو بتا کہ باقی تمام تشریحات رب کی اُس کے مقابل میں باطل ہیں۔اسی طرح تو دنیا میں اُس تعلیم کا اعلان کر جو ہم تجھ پر نازل کر رہے ہیں کیونکہ یہ تعلیم صرف تیرے لئے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے یہ تعلیم لکھی جائے گی، پڑھی جائے گی اور بار بار پڑھی جائے گی پس تو ایک فرد کی حیثیت سے اس کو نہ پڑھ بلکہ اس حیثیت سے پڑھ کہ خدا نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں یہ تعلیم ساری دنیا کے سامنے پیش کروں ہم تیرے ساتھ ہیں اور ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تو ہمارا سچا رسول ہے گویا اقرأ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِی خَلَقَ میں وہ تمام مفہوم آ گیا جو اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلَهُ میں بیان کیا گیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اقر اباسم رنک تو دوسرے الفاظ میں اس کلمہ شہادت کا اعلان کر دیا گیا کہ اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلَهُہ یعنی میں اُس خدائے واحد کو تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں جس کا علم مجھے حاصل ہے اور جو صیح اور سچا علم ہے میں اُس کے نام پر تمہیں اُس کی وحدانیت پر ایمان لانے کا پیغام دیتا ہوں اگر تم میری اس بات کو نہیں مانو گے تو اللہ تعالیٰ کے حضور مجرم اور گناہ گار قرار پاؤ گے کیونکہ میں اس کا رسول ہوں اور میں اُس کے نام پر کھڑا ہوا مجھے کہا گیا ہے کہ میں اس تعلیم کو چھپا کر نہ رکھوں بلکہ دنیا میں پھیلاؤں اور ہر فرد کے کان تک اللہ تعالیٰ کی 50