سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 44 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 44

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحیثیت داعی الی اللہ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيَّا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرًا جا منيرا۔(الاحزاب : ۴۶-۴۷) ترجمہ: ”اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے تجھ کو اس حال میں بھیجا ہے کہ تو دنیا کا نگران بھی ہے مومنوں کو خوشخبری دینے والا بھی ہے اور ( کافروں کو ) ڈرانے والا بھی ہے اور نیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے اُس کی طرف بلانے والا اور ایک چمکتا ہوا سورج بنا کر بھیجا ) ہے۔“ يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائده : ۶۸) ترجمہ: ”اے رسول! تیرے رب کی طرف سے جو ( کلام بھی) تجھ پر اُتارا گیا ہے اُسے (لوگوں تک پہنچا اور اگر تو نے (ایسا) نہ کیا تو (گویا) تو نے اُس کا پیغام ( بالکل نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں (کے حملوں) سے محفوظ رکھے گا بھیج درود اُس محسن پر تو دن میں سوسو بار ماک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار ( در عدن) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے بڑا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام دنیا کو پہنچانا تھا تا کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کیا اور خدائے رحمن و رحیم کی عنایات اور تفضلات کے مورد بنے۔اسی طرح اُس کی مخلوق بھی حسب مراتب خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے اور اُس کا قرب حاصل کرنے اور پیار و محبت کا تعلق قائم کرنے کی راہیں اُنہیں معلوم ہو 44