سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 82
فوت ہو گئے تھے، بیویوں کے بزرگ موجود تھے اور آپ ہمیشہ ان کا ادب کرتے تھے جب فتح مکہ کے موقعہ پر آپ ایک فاتح جرنیل کے طور پر مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر اپنے باپ کو آپ کی ملاقات کے لئے لائے اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے کہا آپ نے ان کو کیوں تکلیف دی میں خود اُن کے پاس حاضر ہوتا۔(سیرۃ حلبیہ جلد ۳ صفحہ ۹۹)۔۔۔۔۔۔۔۔ایک شخص نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ یا رسول اللہ میرے رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں اُن سے نیک سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں میں اُن سے احسان کرتا ہوں اور وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں میں اُن کے ساتھ محبت سے پیش آتا ہوں۔وہ مجھ سے ترش روئی سے پیش آتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو پھر تو تمہاری خوش قسمتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی مددتمہیں ہمیشہ حاصل رہے گی۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۲۵۹) رشتہ دار تو الگ رہے آپ اپنے رشتہ داروں کے رشتہ داروں اور اُن کے دوستوں تک کا بھی بہت خیال رکھتے تھے جب کبھی آپ قربانی کرتے تو آپ محضرت خدیجہ کی سہیلیوں کی طرف ضرور گوشت بھجواتے۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۲۶۰) حضرت حلیمہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی والدہ تھیں اُن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت انس تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں عزت و توقیر کی نظر سے دیکھتے تھے اور ماں کا درجہ عطا کرتے تھے جب ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلیمہ کو آتے دیکھا تو اپنی چادر کندھوں سے اُتار کر نیچے بچھا دی اور اس پر حلیمہ سعدیہ سے بیٹھنے کی درخواست کی۔۔۔۔۔۔غزوہ حنین میں حلیمہ کی قوم کے افراد قید ہوئے اور مجبور ہو کر حلیمہ کے بچوں کے پاس گئے کہ جاؤ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سفارش کرو۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیر تک انتظار کرتے رہے تھے آخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجبور ہو کر فوجیوں میں مال غنیمت تقسیم کر دیا صرف غلام رہنے دیئے کہ حلیمہ کی ایک بچی آپ صلی اللہ علیہ 82