سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 81 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 81

رہنے کے بعد وہ خدا کو پیاری ہو گئیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں خود لحد میں اُتارا۔روئے مبارک پر غم کے آثار ہو ید ا تھے فرمایا یہ بیچاری اکثر بیمار رہتی تھیں میں نے اللہ تعالی سے اس کے لئے بہت دُعا کی ہے۔ب نواسوں سے حسن سلوک آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی عزیز بیٹی حضرت فاطمہ کے بیٹوں حضرت حسن اور حضرت امام حسین سے بہت پیار فرماتے انہیں گود میں اٹھاتے سینہ سے لگاتے اُن کا منہ چومتے عجیب انداز میں اُن سے لاڈ و پیار کرتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امام حسین علیہ السلام کو پکڑا ہوا ہے اس کے پاؤں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں پر ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمارہے تھے۔آ جاؤ! چڑھو! اوپر چڑھو ! یہاں تک کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے پاؤں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ پر آگئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امام حسین کو کہا منہ کھولو۔حضرت امام حسین علیہ السلام نے منہ کھولا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منہ چوم لیا اور کہا الہی میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ۔ج- منہ بولے بیٹے سے پیار ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ بولے بیٹے حضرت زید کے بیٹے اُسامہ کے چوٹ لگ گئی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اُس کا خون صاف کرتے تھے اور ماں کی طرح پیار کرتے ہوئے فرماتے تھے اگر اُسامہ لڑکی ہوتی تو میں اُسے زیور پہنا تا۔“ ( حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم از مولانا غلام باری سیف صفحه ۲۵۲-۲۵۵) رشتے داروں سے حسن سلوک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتے داروں سے حسن سلوک کے عنوان کے تحت حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:۔۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بزرگ تو آپ کے بچپن میں ہی 81