سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 76
تَطْهِيرًا ( الاحزاب : ۳۴ تفسیر صغیر صفحه ۶۹۳) ترجمہ: اے اہل بیت! اللہ تم میں سے ہر قسم کی گندگی دور کرنا اور تم کو کامل طور پر پاک کرنا چاہتا ہے۔نیز آیات کریمہ نمبر ۳۲ اور ۳۵ میں اہل بیت کو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرماں برداری اور اللہ تعالیٰ کی آیات اور حکمت کی باتوں پر عمل کرنے اور اُسے یادر کھنے کا حکم دیا۔یعنی اس پاکیزہ اور پر حکمت کلام الہی کو دنیا میں بھی پہنچاؤ پس آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادیوں کا یہی سر اور بھید ہے اور یہی حکمت پنہاں ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی پوری پوری فرماں بردار بن کر اور کلام الہی کوحرز جان بنا کر دنیا کے لئے اعلیٰ نمونہ بنیں۔چنانچہ تاریخ شاہد ہے اور ہزاروں احادیث مبارکہ سے ازواج مطہرات کی سیرت کے واقعات ملتے ہیں کہ انہوں نے نہایت ہی پاکیزہ اور شاندارا خلاق فاضلہ کے نمونے قائم کئے مثلاً اُن کی محبت الہی اور حب رسول ، انقطاع الی اللہ، نیکی ، تقویٰ، پرہیز گاری ،سخاوت ،صبر وقناعت اور شفقت علی خلق اللہ وغیرہ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایت ازلی سے ازواج مطہرات کو مومنوں کی مائیں قرار دیا۔اس امر سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا باذنِ الہی شادیاں کرنا ایک مقبول بارگاہ الہی فعل تھا۔دونوں جانب سے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فعل عورت کی دنیا میں عزت قائم کرنے کا موجب بنے اور بشریت کے تقاضے پورے ہوں کیونکہ مرد اور عورت دونوں ہی بشر اور خدا تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور جس طرح مرد اپنے لئے عزت شرف کا مقام چاہتا ہے اسی طرح عورت کو بھی عزت اور شرف کا درجہ دیا جائے اور جس طرح مرد اپنے لئے احترام اور محبت چاہتا ہے اُسی طرح عورت کو بھی احترام قدر اور محبت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔اسی لئے احسن الخالقین نے فرما یا : وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً- (الروم : ۲۲) کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان پیار اور رحم کارشتہ پیدا کیا ہے۔پس اُمہات المومنین نے روحانیت میں ترقی کر کے ایک عظیم الشان مقام پیدا کیا جو خاص طور پر ہر مسلمان عورت کے لئے بہترین اُسوہ ہے کیونکہ امہات المومنین نے گھر یلو زندگی کو بھی جنتی بنایا اور ایک پاک معاشرہ قائم کر دکھایا اور خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ 76