سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 71
الایمان ) اسی طرح آپ غلاموں کو آزاد کرنے کے متعلق اتنا زور دیتے تھے کہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے جو شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس غلام کے ہر عضو کے بدلہ میں اُس کے ہر عضو پر دوزخ کی آگ کو حرام کر دے گا۔پھر آپ فرمایا کرتے تھے غلام سے اتنا ہی کام لو جتنا وہ کر سکتا ہے اور جب اُس سے کوئی کام لو تو اُس کے ساتھ مل کر کام کیا کرو تا کہ ذلت محسوس نہ کرے (مسلم جلد ۲ کتاب الایمان ) اور جب سفر کرو تو یا تو اُس کو سواری پر اپنے ساتھ بٹھا ؤ یا اُس کے ساتھ باری مقرر کر کے سواری پر چڑھو اس بارے میں آپ اتنی تاکید فرماتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ جو اسلام لانے کے بعد ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے اور آپ کی اس تعلیم کو اکثر سنتے رہتے تھے وہ کہا کرتے تھے اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے اگر اللہ کے رستہ میں جہاد کا موقع مجھے نہ مل رہا ہوتا اور حج کی توفیق نہ مل رہی ہوتی اور میری بڑھیا ماں زندہ نہ ہوتی جس کی خدمت مجھ پر فرض ہے تو میں خواہش کرتا کہ میں غلامی کی حالت میں مروں کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام کے حق میں نہایت ہی نیک با تیں فرمایا کرتے تھے۔(مسلم جلد ۲ کتاب الایمان) معرور بن سوید روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوذرغفاری کو دیکھا کہ جیسے اُن کے کپڑے تھے ویسے ہی اُن کے غلام کے تھے اس کی وجہ پوچھی کہ آپ کے کپڑے اور آپ کے غلام کے کپڑے ایک جیسے کیوں ہیں تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو اس کی ماں کا طعنہ دیا جو لونڈی تھی اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ایسا شخص ہے جس میں ابھی تک کفر کی باتیں پائی جاتی ہیں غلام کیا ہیں تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری طاقت کا ذریعہ ہیں خدا تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت وہ کچھ عرصہ کے لئے تمہارے قبضہ میں آجاتے ہیں پس چاہیئے کہ جس کا بھائی اس کی خدمت تلے آجائے وہ جو کچھ خود کھاتا ہے اُسے کھلائے اور جو کچھ خود پہنتا ہے اسے پہنائے اور تم میں سے کوئی شخص کسی غلام سے ایسا کام نہ لے جس کی اُسے طاقت نہ ہو اور جب تم انہیں کوئی کام بتاؤ تو خود بھی اُن کے ساتھ مل کر کام کیا کرو۔(مسلم جلد ۲ کتاب الایمان ) (دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۲۵۴) 71