سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 72 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 72

روایت ہے کہ مصعب بن عمیر ایک صحابی تھے جنہوں نے ناز و نعمت میں زندگی بسر کی تھی جب مدینہ ہجرت کر کے آئے تو مخالفوں نے سب کچھ چھین لیا اب اُن کے پاس جسم چھپانے کے لئے کافی لباس بھی نہ ہوتا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیکھتے تو آبدیدہ ہو جاتے۔( ترمذی ابواب صفۃ القیامه بحوالہ صفحہ ۲۰۲ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس واقعہ سے یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ کسی انسان کا دکھ میں پڑنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت دکھ میں ڈال دیتا تھا اسی لئے تو خدائے ذوالعرش نے بھی فرما یا عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُم کہ تمہارا دکھ میں پڑنا ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شاق گزرتا ہے۔صَلُّوْا عَلَيْهِ وَآلِهِ حضرت ابوالدردا بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔کمزوروں میں مجھے تلاش کر د یعنی میں اُن کے ساتھ ہوں اور ان کی مدد کر کے تم میری رضا حاصل کر سکتے ہو یہ حقیقت ہے کہ کمزوروں اور غریبوں کی وجہ سے ہی تم خدا کی مدد پاتے ہو اور اُس کے حضور سے رزق کے مستحق بنتے ہو۔( ترمذی ابواب الجهاد بحوالہ حدیقہ الصالحین نیا ایڈیشن صفحہ ۵۷۱) چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سچا سخی وہی ہے جسے دولت ملے اور وہ اسے تقسیم کرے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے ظالم دشمنوں پر فتح دی اور آپ نے ان کو معاف کر دیا۔آپ کو اس نے بادشاہت دی اور آپ نے اس بادشاہت میں بھی غربت سے گزارہ کر کے اور سب مال حاجت مندوں میں تقسیم کر کے اس بات کو ثابت کر دیا کہ آپ مغرباء کی خبر گیری کی تعلیم اس لئے نہیں دیتے تھے کہ آپ کے پاس کچھ تھا نہیں بلکہ آپ جو کچھ کہتے تھے اس پر عمل بھی کرتے تھے۔( ہمار ا رسول ۴ صفحه (۳۹) 72