سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 68
رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التوبة: ۱۲۸) ترجمہ : ” (اے مومنو!) تمہارے پاس تمہاری ہی قوم کا ایک فرد رسول ہو کر آیا ہے تمہارا تکلیف میں پڑنا اس پر شاق گزرتا ہے اور وہ تمہارے لئے خیر کا بہت بھوکا ہے اور مومنوں کے ساتھ محبت کرنے والا اور بہت کرم کرنے والا ہے۔“ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشفقانہ اور کریمانہ صفات کا ایسے شاندار الفاظ میں تذکرہ فرما دیا ہے کہ جس سے بڑھ کر کوئی انسان آپ کی شان میں مزید الفاظ ادا کرنے کی ہمت نہیں پاتا کیونکہ آپ کی ساری ہی خوبیاں تو بیان کر دی گئی ہیں کہ آپ کسی فرد بشر کی تکلیف نہیں دیکھ سکتے اور اپنی ہمت طاقت سے بڑھ کر اُس کی ہمدردی میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کو حاضر ہیں۔پھر ساری دنیا کے لئے ہر قسم کی بھلائیاں چاہنے والے ہیں اور اپنے آسمانی آقا خداوند کریم سے بھی سب انسانوں کے لئے بھلائی کی دعائیں مانگتے اور خیر کے طلبگار ہیں۔اور سب سے بڑھ کر مومنوں کے لئے تو محبت اور کرم کی برسات برساتے رہتے ہیں۔سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اصحاب صفہ غریب اور بے کس لوگ مسجد نبوی میں رہتے تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں کی ہر طرح دلداری فرماتے اور جو کچھ مہیا ہوتا ان خدا کے بندوں میں تقسیم فرماتے رہتے۔ان اصحاب میں حضرت ابوہریرہ بھی تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عنایات اور شفقت سے ہمیشہ حصہ پاتے تھے جن کا احادیث مبارکہ میں تذکرہ موجود ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید سے ایسا حسن سلوک کیا کہ اُس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنا منہ بولا بیٹا بھی بنایا۔اُن کے ساتھ اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب کی شادی بھی کر دی اُن کے بیٹے کو ناز و نعمت سے پالا باپ بیٹے کو فوج کا کمان دار بھی بنایا الغرض ان گنت شفقتیں فرمائیں۔غریبوں پر شفقت فرماتے ہوئے ایسے پیارے احکام دیئے جو قیامت تک غریبوں کے 68