سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 64
گے۔“ صحابہ کرام نے عرض کی ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا کا پیغام پہنچادیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حق رسالت ادا فرما دیا اور اپنا فرض پورا کر دیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اُٹھائی اور تین بار فرمایا: خدا یا گواہ رہنا، خدا یا گواہ رہنا، خدا یا گواہ رہنا“ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اسی لئے خدائے ذوالعرش نے بھی آسمان سے یہ سند خوشنودی عطا فرمائی وَوَجَدَگ صالاً فَهَدى (الضحی : ۸) اور جب اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنی قوم کی محبت میں سرشار دیکھا تو اُن کی اصلاح کا صحیح راستہ تجھے بتا دیا یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! تو اپنی قوم کی ہدایت کی خواہش میں سرشار تھا سو ہم نے تجھے وہ راستہ بتادیا جس سے تو قوم کی اصلاح کر سکے۔( تفسیر صغیر صفحه ۸۳۱) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک اپنی پاکیزہ تعلیم سے دنیا کی راہنمائی کے سامان مہیا فرمائے سبحان اللہ۔اور دنیا نے دَاعِيَا إِلَى اللَّهِ بِاذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا - ( الاحزاب: ۴۷) کا حسین جلوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات میں مشاہدہ کر لیا۔يَارَب صَلِّ عَلَى نَبِيَّكَ دَائِمًا في هَذِهِ الدُّنْيَا وَبَعْثٍ ثَانٍ == 64