سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 52
طریق اُس نے آپ کو سکھا دیا۔۔۔۔پھر فرمایا: ( تفسیر کبیر جلد نهم صفحه ۲۵۶) پس اگر اُس صفت کو ملحوظ رکھ کر دعا کی جائے جو دعا کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو تو انسان کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے۔اسی حکمت کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے یہاں باشم رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ کا اضافہ کیا اور فرمایا جب تو دعامانگنے لگے تو اس رنگ میں دعا مانگ کہ اے خدا جس نے پیدائش عالم سے میری بعثت کو اپنی دنیا کا مقصد قرار دیا ہوا ہے میں تجھ سے اسی ارادہ کا واسطہ دے کر التجا کرتا ہوں کہ تو مجھے کامیاب کر۔اگر تو اس رنگ میں دعا مانگے گا تو تیری دعا بہت جلد قبول ہوگی اور توقکیل سے قلیل عرصہ میں اپنے مقاصد کو حاصل کر لے گا۔“ حضور دوسری جگہ فرماتے ہیں: ( تفسیر کبیر جلد نهم صفحه ۲۶۹) اقْرَأْ بِاسْمِ رَنگ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تو رسول ہونے کی حیثیت سے اس کام کو شروع کر ہماری تائید تیرے ساتھ ہوگی اور ہماری نصرت تیرے شامل حال ہوگی۔پس باوجود اس حقیقت کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہان کا مقصود تھے اور پیدائش عالم کے روحانی ارتقاء کا آخری نقطہ صرف آپ کی ذات تھی پھر بھی ان الفاظ کی زیادتی بلاوجہ نہیں کی گئی بلکہ ان میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِی خَلَقَ کہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعلان کیا گیا ہے اور آپ کو کہا گیا ہے کہ تو ہمارے نام کیساتھ دنیا کو یہ پیغام سنا جو لوگ تجھ پر ایمان لائیں گے انہیں میری رضا حاصل ہوگی اور جو انکار کریں گے وہ میرے عذاب کا نشانہ بنیں گے۔‘ ( تفسیر کبیر جلد نم صفحہ ۲۶۸-۲۶۹) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَق کی تفسیر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔پس تعلق کا کمال دنیا میں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا ہے اور تعلق پیدا کرنے والی تعلیم کا کمال قرآن کریم نے پیش کیا ہے کہ اُس کے لفظ لفظ اور حرف 52