سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 38 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 38

عائشہ رضی اللہ عنھا کی گواہی بھی آپ کے اخلاق کے بارے میں ملاحظہ ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ تیرہ چودہ سال کی عمر میں آپ سے بیاہی گئیں اور کوئی سات سال کا عرصہ آپ کی صحبت میں رہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اُن کی عمر ۱ ۲ سال کی تھی اور وہ پڑھی لکھی بھی نہیں تھیں لیکن باوجود اس کے اُن پر یہ فلسفہ روشن تھا ایک دفعہ آپ سے کسی نے سوال کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق تو کچھ فرمائیے تو آپ نے فرمایا كَانَ خَلَقَهَ كُلُّهُ القُرْآنَ ( بخاری ) یعنی آپ کے اخلاق کا کیا پوچھتے ہو جو کچھ آپ کہا کرتے تھے انہی باتوں کا قرآن کریم میں حکم ہے اور قرآن کی لفظی تعلیم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل سے جدا گانہ نہیں ہے ہر خلق جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اُس پر آپ کا عمل تھا اور ہر عمل جو آپ کرتے تھے اُسی کی قرآن کریم میں تعلیم ہے یہ کیسی لطیف بات ہے۔معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اتنے وسیع اور اتنے اعلیٰ تھے کہ ایک نوجوان لڑکی جو تعلیم یافتہ بھی نہیں تھی اُس کی توجہ کو بھی اس حد تک پھرانے میں کامیاب ہو گئے کہ ہندو، یہودی اور مسیحی فلسفی جس امر کی حقیقت کو نہ سمجھ سکے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس امر کی حقیقت کو پاگئیں اور ایک چھوٹے سے فقرہ میں آپ نے یہ لطیف فلسفہ بیان کر دیا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک راستباز اور مخلص انسان دنیا کو ایک تعلیم دے اور پھر اس پر عمل نہ کرے یا خود ایک نیکی پر عمل کرے اور دنیا سے اسے چھپائے۔اس لئے تمہیں محمد رسول اللہ سلم کے اخلاق معلوم کرنے کے لئے کسی تاریخ کی ضرورت نہیں وہ ایک راستباز اور مخلص انسان تھے جو کہتے تھے وہ کرتے تھے اور جو کرتے تھے وہ کہتے تھے ہم نے اُن کو دیکھا اور قرآن کریم کو سمجھ لیا۔تم جو بعد میں آئے ہو قرآن پڑھو اور محمد رسول اللہ کو سمجھ لو۔اللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكَ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيد (دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۱۰۷،۱۰۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کے بارے میں حضرت امام مہدی علیہ 38