سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 32
شریف میں موجود ہیں۔غرض کسی رنگ میں دیکھو، یہ معجزہ ہے۔“ نیز فرمایا: ( ملفوظات جدید ایڈ یشن جلد دوم صفحه ۲۷،۲۶) قرآن شریف ایسا معجزہ ہے کہ نہ وہ اوّل مثل ہوا اور نہ آخر کبھی ہوگا اُس کے فیوض و برکات کا در ہمیشہ جاری ہے اور وہ ہر زمانہ میں اسی طرح نمایاں اور درخشاں ہے جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا۔۔۔۔۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت واستعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے کہ دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا۔کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدودوقت یا مخصوص قوم کے لئے نہ تھی جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی تھی۔بلکہ آپ کے لئے فرمایا گیا انِّی رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جميعًا (الاعراف: ۱۵۹) اور مَا اَرْسَلُنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِين ( الانبياء : ۱۰۸) جس شخص کی بعثت اور رسالت کا دائرہ اس قدر وسیع ہوا۔اس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔اس وقت اگر کسی کو قرآن شریف کی کوئی آیت بھی الہام ہو تو ہمارا یہ اعتقاد ہے کے اس کے اس الہام میں اتنا دائرہ وسیع نہیں ہو گا جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور ہے۔( ملفوظات جدید ایڈیشن جلد دوم صفحه ۴۱،۴۰) یا نبی اللہ توئی خورشید رہ ہائے ھدی بے تو نآرد رو برا ہے عارف پرہیز گار یا نبی اللہ لب تو چشمہ جاں پرور است یا نبی اللہ تو کی درراہ حق آموزگار (آئینہ کمالات اسلام صفحه ۲۵) 32 2