سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 31 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 31

اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اور مدح میں جو لفظ خاتم النبیین فرمایا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا شدہ تعلیم خاتم الکتب ہے۔اُس کی خوبیوں اور فضیلت کو حضرت امام مہدی علیہ السلام نے ان روح پرور اور وجد آفریں الفاظ میں بیان فرمایا: خاتم النبیین کا لفظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا گیا ہے بجائے خود چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب ہو اور سارے کمالات اُس میں موجود ہوں اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں۔کیونکہ کلام الہی کے نزول کا عام قاعدہ اور اُصول یہ ہے کہ جس قدر قوت قدسی اور کمالِ باطنی اس شخص کا ہوتا ہے اُسی قدر قوت اور شوکت اُس کلام کی ہوتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوت قدسی اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہو گا۔اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے اس اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات کمال آپ پر ختم ہو چکے تھے اور آپ انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے تھے اس مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا۔کمال کو پہنچا ہوا ہے اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح پر اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہو گئے آپ خاتم النبیین ٹھہرے اور آپ کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری۔جس قدر مراتب اور وجوه اعجاز کلام کے ہو سکتے ہیں اُن سب کے اعتبار سے آپ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت، کیا باعتبار ترتیب مضامین ، کیا باعتبار تعلیم کیا باعتبار کمالات تعلیم ، کیا باعتبار ثمرات تعلیم۔غرض جس پہلو سے دیکھواسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی بلکہ عام طور پر نظیر طلب کی ہے یعنی جس پہلو سے چاہو مقابلہ کرو خواہ بلحاظ فصاحت و بلاغت، خواہ بلحاظ مطالب و مقاصد، خواه بلحاظ تعلیم ، خواہ بلحاظ پیشنگوئیوں اور غیب کے جو قرآن 31