سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 30
اور لافانی ہوگی تو موسی کے دل میں شوق انگڑائیاں لینے لگا کہ اے خداوند کریم مجھے بھی وہ نور اور تجلی دکھا جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا جائے گی۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسی تو اُس جلوہ یا تجلی یا نور یا آتشی شریعت کا بوجھ آپ اور آپ کی قوم نہیں آٹھا سکتے کیونکہ وہ کامل شریعت ہے جسے کامل انسان ہی برداشت کر سکے گا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کامل تعلیم ملی جو سب پہلی تعلیموں سے اپنی شان میں ارفع واعلی تھی چونکہ پہلے تمام انبیاء علیہم السلام مختص القوم اور مختص الزمان تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم تمام انسانوں کے لئے تھی اور قیامت تک ممتد تھی اس لئے قرآن کریم کی ارفع تعلیم کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔چنانچہ حضرت امام الزماں دی علیہ السلام فرماتے ہیں:۔یہ امر قرآن شریف سے بخوبی ثابت ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ب الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيناً (المائدہ : ۴) یعنی آج میں نے قرآن کے اُتارنے اور تحمیل نفوس سے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کر لیا۔حاصل مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید جس قدر نازل ہونا تھا نازل ہو چکا اور مستعد دلوں میں نہایت عجیب اور حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کر چکا اور تربیت کو کمال تک پہنچادیا اور اپنی نعمت کو اُن پر پورا کر دیا اور یہی دور کن ضروری ہیں جو ایک نبی کے آنے کی علت غائی ہوتے ہیں۔اب دیکھو یہ آیت کس زور شور سے بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز اس دنیا سے کوچ نہ کیا جب تک کہ دین اسلام کو تنزیل قرآن اور تکمیل نفوس کامل نہ کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔اور یہی ایک خاص علامت منجانب اللہ ہونے کی ہے جو کاذب کو ہرگز نہیں دی جاتی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی صادق نبی نے بھی اس اعلیٰ شان کے کمال کا نمونہ نہیں دکھلایا کہ ایک طرف کتاب اللہ بھی آرام اور امن کے ساتھ پوری ہو جائے اور دوسری طرف تکمیل نفوس بھی ہو اور بایں ہمہ کفر کو ہر ایک پہلو سے شکست اور اسلام کو ہر ایک پہلو سے فتح ہو۔“ ( نور القرآن نمبر ۱ بحوالہ مرزا غلام احمد ۴۶۴) 30