سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 28
آپ نے اس کی زندگی میں کی ہے وہ کبھی کسی عاشق نے اپنے محبوب و معشوق کی تلاش میں کبھی نہیں کی اور نہ کر سکے گا پھر آپ کی تضرع اپنے لئے نہ تھی بلکہ یہ تضرع دنیا کی حالت کی پوری واقفیت کی وجہ سے تھی۔خدا پرستی کا نام و نشان چونکہ مٹ چکا تھا اور آپ کی روح اور ضمیر میں اللہ تعالیٰ میں ایمان رکھ کر ایک لذت اور سرور آچکا تھا اور فطریا دنیا کو اس لذت اور محبت سے سرشار کرنا چاہتے تھے اُدھر دنیا کی حالت کو دیکھتے تھے تو اُن کی استعداد میں اور فطرتیں عجیب طرز پر واقع ہو چکی تھیں اور بڑے مشکلات اور مصائب کا سامنا تھا غرض دنیا کی اس حالت پر آپ اگر یہ وزاری کرتے تھے اور یہاں تک کرتے تھے کہ قریب تھا کہ جان نکل جاتی اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ۔(الشعراء: ۴) یہ آپ کی متضرعانہ زندگی تھی اور اسم احمد کا ظہور تھا اُس وقت آپ ایک عظیم الشان توجہ میں پڑے ہوئے تھے۔اس توجہ کا ظہور مدنی زندگی اور اسم محمد کی بجلی کے وقت ہوا جیسا کہ اس آیت سے پتہ لگتا ہے وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ (ابراہیم : ۱۶) ( ملفوظات جدید ایڈ یشن جلد اول صفحه ۴۲۳) الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیارے رب کریم سے دنیا کے تمام انسانوں سے بڑھ کر عشق و محبت کا اظہار کیا اور آسمانی رفعتوں اور بلندیوں کو طے کر کے فَكَان قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى (النجم:۹) کے مطابق معراج عبودیت کا وہ مقام حاصل کر لیا اور قرب کے اُس عظیم اور بلند ترین مقام پر پہنچے جہاں دنیا کے انسان تو کیا جبریل امین کو بھی پر مارنے کی طاقت نہ تھی۔اللهم صل على محمد و آل محمد 28