سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 27 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 27

زبان ہر وقت ذکر سے تر رہتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوتے وقت، پہلو بدلتے وقت، بیدار ہوتے وقت، وضو یا غسل کرتے وقت ، لباس بدلتے وقت ، گھر سے باہر جاتے وقت ، گھر میں آتے وقت، مسجد میں داخل ہوتے وقت، مسجد سے نکلتے وقت سواری پر سوار ہوتے وقت، بلندی پر چڑھتے وقت، نئے چاند کو دیکھتے وقت، ہوا کی تیزی کے وقت، بارش کے نزول کے وقت ، نیا پھل ملنے پر، بیت الخلاء کو جاتے وقت، بیت الخلاء سے نکلتے وقت ، دودھ پیتے وقت، کسی بستی میں داخل ہوتے وقت ، بعض مخصوص دُعائیں پڑھتے جو سب کی سب احادیث میں درج ہیں۔ان سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کا یہ پیغمبر ہر آن خدا کی یاد میں محور ہتا تھا۔۔۔۔۔۔اسی لئے آپ کے شدید دشمن بھی کہا کرتے تھے کہ عشق محمدر بہ حمد تو اپنے رب کا عاشق ہے۔“ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم از غلام باری صفحه ۱۶۲ تا ۱۶۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت اور خدا پرستی کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق صادق حضرت امام مہدی علیہ السلام نے نہایت روح پر ور اور وجد آفرین تقریر فرمائی۔حضور فرماتے ہیں: آپ کے مبارک ناموں میں ایک سر یہ ہے کہ حمد اور احمد مجودو نام ہیں اُن میں دو جدا جدا کمال ہیں۔محمد کا نام جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے جو نہایت درجہ تعریف کیا گیا ہے اور اس میں ایک معشوقانہ رنگ ہے کیونکہ معشوق کی تعریف کی جاتی ہے پس اس میں جلالی رنگ ہونا ضروری ہے۔مگر احمد کا نام اپنے اندر عاشقانہ رنگ رکھتا ہے کیونکہ تعریف کرنا عاشق کا کام ہے وہ اپنے محبوب اور معشوق کی تعریف کرتا رہتا ہے۔اس لئے جیسے محمد محبوبانہ شان میں جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے اسی طرح احمد عاشقانہ شان میں ہو کر غربت اور انکساری کو چاہتا ہے اس میں ایک سر یہ تھا کہ آپ کی زندگی کی تقسیم دو حصوں پر کر دی گئی۔ایک تو مکی زندگی جو تیرہ برس کے زمانہ کی ہے اور دوسری زندگی جو مدنی زندگی ہے اور وہ دس برس کی ہے۔مکہ کی زندگی میں اسم احمد کی بجلی تھی۔اس وقت آپ کی دن رات خدا تعالیٰ کے حضور گریہ و بکا اور طلب استعانت اور دُعا میں گذرتی تھی اگر کوئی شخص آپ کی اس زندگی کے بسر اوقات پر پوری اطلاع رکھتا ہو تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ جو تضرع اور زاری 27