سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 26
تعالیٰ کی طرف سے گھر میں نماز پڑھ لینے اور لیٹ کر پڑھ لینے تک کی بھی اجازت ہوتی ہے آپ سہارا لے کر مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے آتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شرک سے آپ کو اس قدر نفرت تھی کہ وفات کیوقت جب کہ آپ جان کندن کی تکلیف میں مبتلا تھے آپ کبھی دائیں کروٹ لیٹتے اور کبھی بائیں کروٹ لیٹتے اور یہ فرماتے جاتے خدا ان یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جب مکہ کے لوگوں نے آپ کے سامنے ہر قسم کی رشوتیں پیش کیں تا آپ بتوں کی تردید کرنا چھوڑ دیں اور آپ کے چا ابو طالب نے بھی اس امر کی سفارش کی اور کہا کہ اگر تم نے اتنی بات بھی نہ مانی تو میری قوم ، اگر میں نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا تو مجھے بھی چھوڑ دے گی تو آپ نے فرمایا اے چا! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو بانہیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدائے واحد کی توحید کو پھیلانے سے نہیں رک سکتا۔اسی طرح اُحد کے موقعہ پر جب مسلمان زخمی اور پراگندہ حالت میں ایک پہاڑی کے نیچے کھڑے تھے اور دشمن اپنے سارے ساز و سامان کے ساتھ اس خوشی میں نعرے لگا رہا تھا کہ ہم نے مسلمانوں کی طاقت کو توڑ دیا ہے جب ابوسفیان نے کہا أغل هُبل أغل مبل یعنی مبل کی شان بلند ہو یعنی ہبل کی شاند بلند ہو تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو جو دشمن کی نظروں سے چھپے کھڑے تھے اور اس چھپنے ہی میں اُن کی خیر تھی حکم دیا کہ جواب دو الله أغلى وَأَجَلُ اللَّهُ أَعْلَىٰ وَأَجَلُ اللہ ہی سب سے بلند اور جلال والا ہے اللہ ہی غلبہ اور جلال رکھتا ہے (دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۲۴۰ تا ۲۴۲) جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعوی نبوت سے بھی قبل کئی کئی دن گھر سے باہر غار حرا میں جا کر اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات پر غور فرماتے اُس کے نام کا ورد کرتے اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی کہ اس عبادت کے نتیجہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مزکی دل انوارِ خداوندی کا مهبط بن گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ جو بڑا علمی ذوق رکھتی تھیں اور نہایت ذہین اور نکتہ رس تھیں۔فرماتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت خدا کا ذکر کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی 26