سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 24
(1) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت کا تعلق اللہ تعالیٰ سے تعلق کی شہادت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کا خواب ہے کہ میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے اس کا نام محمد رکھا گیا ہے انہوں نے خواب میں یہ بھی دیکھا کہ اُن کے اندر سے ایک چمکتا ہوانور نکلا ہے جو دور دراز ملکوں میں پھیل گیا ہے دوسری شہادت یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار سال کے تھے اور جنگل میں اپنے رضاعی بھائیوں سے کھیل رہے تھے کہ دوفرشتے متمثل ہو کر آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ مبارک چاک کر کے اُس میں نور اور ایمان بھرا یہ ایک کشف تھا جس کی تعبیر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے دل اور سینہ کو نور سے بھر دیا ہے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے پیارے خالق و مالک سے دل لگالیا اور دنیاوی ہر قسم کے لہو ولعب اور رنگ راگ کی محفلوں سے ہمیشہ دور رہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر جب تیس سال سے زیادہ ہوئی تو آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی عبادت کی رغبت پہلے سے زیادہ جوش مارنے لگی آخر آپ مشہر کے لوگوں کی شرارتوں، 24